نفسیاتی مریض کا علاج


 * ڈپریشن، ٹینشن، بے خوابی، دماغی انتشار،انزائٹی، چڑچڑا پن، مالیخولیا، منفی سوچ، ہر کام میں نگٹیوٹی، مایوس اندھیر زندگی، وھم وسوسہ موبائل ٹی وی کے کثرتِ استعمال اور ھینڈ فری سے مکمل اجتناب لازم ہے، *


نفسیات

زہنی انتشار دباؤ کے شکار مریضوں کے لیے

بعض لوگ منفی خیالات سے بہت تنگ ہوتے ہیں اور ان کے دماغ میں بار بار منفی خیالات آتے ہیں

کیا آپ کے زہن میں منفی خیالات آتے ہیں اور ایسے خیالات آتے ہیں جن سے آپ زیادہ تنگ ہیں۔ اور بعض دفعہ ایسے خیالات آتے ہیں کہ جن سے آپ کو نفرت ہوتی ہے اور ان خیالات کی شدت سے بعض اوقات آپ کو اپنے آپ سے بھی نفرت ہونا شروع جاتی ہے ۔

آج تین طریقے بتاؤں گا جن پر آپ عمل کرنا شروع کر دیں گے تو آپ ان منفی خیالات سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ اور نجات میں کامیاب ہو جائیں گے ،


بعض لوگ منفی خیالات سے بہت تنگ ہوتے ہیں اور ان کے دماغ میں بار بار منفی خیالات آتے ہیں جیسے کہ کسی کو نقصان پہنچانے کا خیال۔

کسی کمزور سے زیادتی کرنے کا خیال ۔

بعض لوگ اپنے ماضی کے ایسے واقعات جو ان کے لئے شرمندگی کا باعث بنے ہوں یا ان پر غصہ آتا ہو ان خیالات پر۔ ان خیالات کا ان کے زہن میں بار بار آنا ہوتا ہے ۔ بعض لوگ مستقبل کے خیالات ان کے زہن میں آتے ہیں اور کوشش کے۔ باوجود وہ ان سے چھٹکارا حاصل کر پاتے۔

آج میں  آج تین طریقے بتاؤں گا اگر آپ عمل کریں گے تو آپ ان منفی خیالات سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے ہمیشہ کے لیے ان شاءاللہ- اور ایک صحت مند اور خوشحال زندگی گزارنا شروع کر دیں گے۔


1. بہت اہم کام جب بھی منفی خیالات آپ کے زہن میں آئیں تو آپ ان کے ساتھ اپنے جذبات کو اٹیچ نہ کریں ۔

اپنے جذبات کا اور ان خیالات کا ربط آپس میں ختم کر دیں۔ جیسے کہ آپ جب آپ کے منفی خیالات آتے ہیں تو ان کے ساتھ اگر آپ کو غصہ آتا ہے نفرت کے احساس ہوتا ہے شرم کا احساس ہوتا ہے گناہ کا احساس ہوتا ہے، جو بھی جذبات آپ کے ساتھ ناگوار جذبات آپ کے زہن میں آتے ہیں ان۔ جذبات کو ان خیالات سے الگ کر دیں۔ اور جب وہ خیالات آئیں تو سب سے پہلے کام یہ کرنا ہے کہ ان خیالات سے لڑنا نہیں ہے ۔ ان کو کھلی چھٹی دے دیں جتنے آئیں جتنے لمبے عرصے کے لئے آئیں آپ نے ان سے لڑنا نہیں ہے اس لئے کہ جب آپ ان خیالات سے لڑتے ہیں ان سے نفرت کرتے ہیں ان کی وجہ سے شرمندگی یا نفرت کا احساس آپ کے دل میں پیدا ہوتا ہے تو آپ دراصل ان خیالات میں جان ڈالتے ہیں ۔

تو جب آپ ان خیالات سے اپنے جذبات الگ کر دیتے ہیں تو ان کی طاقت ختم ھو جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال دیتا ہوں جیسا کہ آپ کسی گلی میں جا رہے ہیں اور کسی گھر کا کتا بھونکنے لگتا ہے، جب کتا بھونکنے لگتا ہے تو شروع میں آپ گھبرا جائیں گے کہ کہیں مجھے کاٹ نہ لے مگر جب آپ کا وہاں سے گزر ہوگا تو آپ کو اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ یہ کتا مجھے کاٹ نہیں سکتا کیونکہ وہ کتا اپنے گھر کی حدود بانڈری کے اندر بھونکتا رہتا ہے تو پھر آپ کا خوف ختم ہو جائے گا اور کچھ عرصہ بعد 4-5 دن بعد جب آپ گزریں گے تو کتا بھونکتا رہے گا اور آپ کا دھیان اس طرف نہیں جائے گا ۔ اسی طرح جب آپ کو اپنے کردار پر یقین ہوتا ہے کہ میں ایسا شخص نہیں ہوں اور یہ خیالات جو ہیں میرے زہن میں آ رہے ہیں اور ان کا میرے کردار پہ یا شخصیت پر برا اثر نہیں ہو سکتا تو وہ خیالات اپنی طاقت کھو دیتے ہیں اور پھر آپ پر اثر انداز نہیں ہو پاتے، 

اسی طرح جب آپ ان خیالات کے خلاف نفرت خوف ڈر غصہ یہ سارے جذبات آپ کے ہاں ختم ہو جائیں گے تو یہ خیالات بھی اس کتے کی طرح بھونکتے رہیں گے اور ان کا آپ پر اثر نہیں ہو گا۔ 

یہاں میں یہ بات بتانا چاہوں گا کہ ہم سب انتہائی قسم کے جذبات کے بنے ہوئے لوگ ہیں۔ ایک شخص میں محبت بھی ہو گی نفرت بھی ہو گی۔ ایک شخص محبت بھی کرے گا اور بعض دفعہ غصہ بھی کرے گا اور ایک شخص اگر فخر محسوس کرتا ہے تو کچھ کاموں پر اس کو شرمندگی محسوس ہوگی۔ ہم سب میں یہ تمام جذبات ہوتے ہیں مگر بہت سارے جو ہمارے منفی جذبات ہوتے ہیں ان کو ہم نیگیٹ کرتے ہیں ان کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے وہ ہماری شخصیت کا حصہ ہوتے ہیں لیکن ہمارے کردار کا حصہ نہیں ہوتے یا یوں کہہ لیں کہ وہ ہمارے زہن کے اندر تو ہوتے ہیں مگر وہ ہمارے کردار کا حصہ نہیں ہوتے ہم ریجیکٹ کرتے رہتے ہیں تو یہ جذبات منفی خیالات کی صورت میں ہمارے اوپر حملہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تو یہ بات زہن میں ضروری ہم نے رکھنی ہے کہ دراصل یہ خیالات ان کے اندر کوئی جان نہیں ہے ۔ یہ کبھی کسی کے کردار پر اثرانداز نہیں ہو سکتے، مگر سوچوں ہی سوچوں میں ہم ان میں جان ڈال رھے ہوتے ہیں ۔ جب ہم ان سے نفرت کرتے ہیں ان کی وجہ سے شرمندگی یا گناہ کا احساس ہوتا ہے تو ہم ان میں جان ڈال رہے ہوتے ہیں ۔ جب وہ چیز اس میں سے آہستہ آہستہ اس میں سے ختم کر لیں گے تو یہ ایک دم سے نہیں ہوگا۔

بعض لوگ اپنے ماضی کے متعلق کسی واقعے کا سوچتے ہیں تو بار بار اس واقع کا سوچتے ہیں کچھ واقعات میں ان کو شرمندگی ہوئی ہوتی ہے، کچھ واقعات میں ناکامیوں کا احساس ہوتا ہے۔ یا غصے کا احساس ہوتا ہے تو وہ جب بار بار ان خیالات کو سوچتے ہیں تو اسی طرح نفرت کے یا غصے کے احساسات ان کے زہن میں آتے رہتے ہیں تو پھر عادت بن جاتی ہے ان لوگوں کی بار بار اپنے آپ کو عادتاً سزا دے رہے ہوتے ہیں کہ میں نے ایسے کیوں کیا ایسا فیصلہ غلط تھا ایسی غلطی کیوں کی، فلاں کام کیوں کیا، فلاں فلاں نے میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا، تو کچھ عرصے بعد ان کی عادت بن جاتی ہے اور وہ انہی خیالات میں جس کو وہ بدل نہیں سکتے ماضی کے حالات و واقعات وہ ان کو کیسے بدلیں گے، مگر بار بار ان پر سوچتے ہیں اور اگر آپ کو ایسی عادت ہے تو کرنا کیا ہے کہ آپ نے ان خیالات کا تھوڑی دیر جب بھی زہن میں آ جائیں بیشک وہ آ جائیں آپ کے زہن میں۔ مگر ان کا آپ کے اثر نہ ہو آپ کے اموشن اپنے جذبات ان سے ہٹا دیں کوئی ماضی میں غلطی ہوئی ہے یا کوئی ایسا کام ہوا ہے یا کاروبار میں گھاٹا یا ایسا کام جو کسی نے مانا نہیں یا ایسا کام جس پر آپ ناراض ہیں یا شرمندہ ہیں یا غصہ ہے تو خیالات آپ کے جزبات کو متاثر کرتا ہے۔ 

آپ نے کرنا کیا ہے اس خیال واقع کے متعلق جو بھی آپ کا خیال ہے اس واقعے کو جب بھی یاد کریں تو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ جو آپ کی گلٹی ہونے، فیلنگ ہیں غصہ کا احساس، ڈر خوف کا احساس ہے، شرم کا احساس ہے، فیلیور کا احساس ہے جو آپ کے ہاں گناہ کا احساس ہے۔ وہ اس میں سے ہٹا دیں، تو وہ جب 4-5 دفع وہ خیالات آپ کے زہن سے گزرے گا بغیر احساسات کے تو وہ اس کی طاقت ختم ھو جائیگی ۔


اب میں آپ کو دوسرا طریقہ بتاتا ہوں

دوسرے طریقے کی طرف آتا ہوں جس کو ہم بایو فیڈبیک کہتے ہیں ۔

جیسے کہ کوئی بات بار بار کرنا۔ جب آپ کوئی بات بار بار کرتے ہیں، وہ آپ کے لاشعور میں چلی جاتی ہے، یہ خیالات جو منفی خیالات آتے ہیں جس کی وجہ میں نے آپ کے سامنے ایکسپلین کر دی جب آپ کے زہن میں آئیں گزریں جیسے میں کہا ان کو کھلی چھٹی دے دیں اس کے بعد پانچ دفعہ ان کے مخالف کوئی پازیٹیو مثبت خیاک سوچ لیں جیسا کہ آپ اپنے آپ سے کہہ سکتے ہیں کہ ان خیالات کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا، یہ خیالات ہیں اب ان کی کوئی اہمیت حثیت نہیں ہے یہ کبھی بھی میرے کردار فیصلہ کو متاثر نہیں کر سکتے اور مجھے کبھی بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے اور یہ خیال بار بار دہرائیں، کہ آپ ایک پر اعتماد confident شخص ہیں. چونکہ بعض دفعہ ہم میں اعتماد بھروسہ کی کمی ہوتی ہے بعض اوقات ایسے واقعات ہو جاتے ہیں زندگی میں جس کی وجہ سے ہمارا اعتماد اعتبار متزلزل ہو جاتا ہے اس وجہ سے منفی خیالات آتے ہیں، تو ہمیں ڈر خوف پیدا ہوتا ہے کہیں ہم ان کے مطابق کوئی غلط حرکت نہ کر لیں غلط فیصلہ نہ کر لیں۔ تو جب آپ اپنے آپ کہیں گے کہ میں پر اعتماد شخص ہوں میرا کردار بالکل درست ہے میرا فیصلہ درست ہے کام درست ہے صاف ستھرا ہے۔ یہ خیالات ہیں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے یہ میرے کردار پر بالکل اثرانداز نہیں ہوں گے تو ان کا آپ کے اوپر اثر influence آٹومیٹکلی کم ہو جائے گا۔ 

تیسرا طریقہ،

کوئی اچھا کام روزآنہ سوچ کر کر لیں۔ یہ بہت اہمیت کا حامل ہے کہ وہ کونسا اچھا کام کریں گے، وہ اچھا کام جو آپ کریں گے جس میں آپ نے خودکو ثابت کرنا ہے کہ آپ ایک اچھے انسان ہیں اچھے کردار کے مالک ہیں پر اعتماد شخص ہیں ، آپ کا کام صحیح ہے۔ اس اچھے کام کو میں سجیسٹ نہیں کرتا جس کا کوئی صلہ یا بدلہ چاہیں، مثلاً آپ کہیں کہ میں بازار سے گزر رہا تھا میں نے فقیر کو دس روپے دے دئیے جو پروفیشنل فقیر بیٹھے ہوتے ہیں بھیک مانگنے والے اور پھر آپ سینہ تان کر چلیں کہ جناب میں نے کوئی اچھا کام کیا ہے، نہیں

آپ نے اچھا کام کرنا وہ یہ کرنا ہے کہ اس کے خلاف کوئی صلہ کوئی expectation نہیں رکھنی اس کا مجھے کوئی ثواب ملے گا کوئی صلہ ملے گا کوئی میری تعریف کرے گا یا لوگ کہیں گے کہ میں اچھا بندہ ہوں۔

مگر وہ اچھا کام آپ نے اپنے آپ کو ثابت کرنے کیلئے کرنا ہے۔ نیکی کر دریا میں ڈال 

اچھا ایک مثال لے لیں۔

آپ یوں کریں کہ اگر کوئی گلدان ہے تو اچھا ہے اگر گلدان نہیں ہے تو اپنے کمرے میں یا دفتر میں گلدان رکھ لیں۔ اور اس میں آرٹیفیشل یا بلکہ اس میں تازہ پھول رکھیں اور ان کو دیکھ کر خوش ہوں کہ میں نے یہ ایک اچھا کام کر لیا ہے۔ 

آپ کے بیک گراؤنڈ میں نیگٹیو تھاٹ اچھل کود کرتے رہیں ان کا آپ کے اوپر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ 

یہ روزآنہ کے basis پر معمولات میں کوئی اچھا کام کریں۔۔ جس سے آپ کا اپنی اچھائیوں پر اعتماد بڑھے گا۔ اور اگر آپ کی خود اعتمادی میں کمی اور آپ کو ڈر لگ رہا ہے کہ منفی خیالات کا آپ کے کردار پر اثر ہو گا تو روزآنہ کی بنیاد پر کوئی اچھا کام کریں گے تو ان برے خیالات کا اثر کم ہو گا اور آپ نفسیاتی طور پر ان سے ڈسٹرب نہیں ہوں گے ۔ خوداعتمادی بڑی چیز ہے

یہ چند باتیں کی ہیں جو منفی خیالات سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ 

سگریٹ نوشی سے زہنی انتشار کا خطرہ ہے اس کو ترج کر دیں۔ 

ہمیشہ خوش رہیں چھوٹی چھوٹی خوشیاں حاصل کریں۔ 

دافع انتشار خوشبو عنبر استعمال کریں۔ دافع ڈپریشن اور زہنی انتشار ہے۔ ۔


*ڈپریشن، ٹینشن، بے خوابی، دماغی انتشار،انزائٹی، چڑچڑا پن، مالیخولیا،منفی سوچ،ہر کام میں نگٹیوٹی، مایوس اندھیر زندگی، 

وھم وسوسہ کے کامیاب علاج  

دماغ کو تراوت دیں۔ دماغ کو تقویت و توانائی بحال کرنے کے لیے مفید دوائیں استعمال کریں انشاءاللہ تعالیٰ آپ پر اعتماد شخص بن جائیں گے اور منفی خیالات کے بداثرات دور ہوں گے ۔


اگر آپ کو اپنی زندگی اس طرح پسند نہیں ہے جس طرح سے ہے، تو صرف ایک ہی جگہ ہے کہ آپ یہ تلاش کریں کہ کس کو قصوروار ٹھہرانا ہے: 

آئینہ شیشہ جس میں اپنا عکس دیکھیں۔ سمجھیں۔ 

نوٹ!

پوسٹ پسند آئے تو ضرور اس کو لائک کریں۔

ڈاکٹر عبدالغفار حیدرآباد 

فون 03003745763

Comments

Popular posts from this blog

عورت میں جنسی کمی علاج

سرعت انزال اور ٹاٸمنگ

تیزابیت گیس کا علاج