طب وحکمت
مشت زنی اور انگشت زنی
مردانہ کمزوری
تفصیلی گفتگو
قسط اول
اس مضمون کو تفصیلی لکھنے کا مقصد میرے وطن عزیز کے نوجوان جوان حتی کے بزرگ حضرات ایسی بدعادات کا شکار ہیں
مشت زنی مطلب عام الفاظ میں اپنے ہاتھوں سے اپنے عضو خاص کو رگڑنا مسلنا خود کو فارغ کرنا
انگشت زنی مطلب فی میلز اپنی انگلی یا کسی اور چیز کا استعمال جس سے انتہائے لذت تک پہنچ کر اپنی خواہش خود پوری کرنا کو کہتے ہیں
مشت زنی اور انگشت زنی
اس کی تھوڑی سی وضاحت کردیتا ہوں
اپنی جوانی اپنے ہاتھوں سے برباد کرنے کو کہتے ہیں
اپنا جوہر حیات ضائع کرکے خود کو اذیت دینا
یہ ایسا بد عمل ہے جو دنیا اور آخرت دونوں برباد
اولاد کی نعمت سے محرومی کا سبب
قوت ارادی کمزور
سیلف رسپکٹ ختم
کانفیڈسن لیول زیرو
ڈیلی ورکنگ روٹین شدید متاثر
تنہا پسند
چڑچڑاپن
خواہشات ختم ہو جانا
اللہ رب العزت نے انسان کو قوت باہ یعنی مردانہ طاقت تحفے کے طور پر ایک زبردست انعام دیا ہے
چاہے وہ مرد ہو یا عورت
حلال طریقے سے خواہشات پوری کریں انعام میں اللہ رب العزت نے اولاد جیسی نعمت جس کا کوئی بدل نہیں رکھا ہے
اور انسان اسے غیر فطری طریقوں سے ضائع کر دیتا ہے
حالانکہ یہ ایک ایسا تحفہ ہے ایک ایسی نعمت ہے جس کا بدل یا برابری سونا چاندی ہیرا بھی نہیں کر سکتے
مثال کے طور پر
اگر کوئی بادشاہ ہو یا شہنشاہ ہو
اور اس کے پاس مردانہ طاقت نہ ہو وہ کمزور ہو وہ کسی فقیر سے کہے کہ میں اپنی ساری بادشاہت تمہیں دیتا ہوں تم اپنی مردانہ طاقت مجھے دو فقیر کبھی بھی سودا نہیں کرے گا
مرد کا اصل زیور اس کی قوت باہ یعنی مردانہ طاقت ہے
اللہ نے مرد کو ایک نرالی شان بخشی ہے
مرد ایک رعب دار طبیعت ہی اچھا لگتا ہے
جنسی کمزوری کے مریض عورتوں کی غلامی کرتے نظر آئیں گے
مرد کو اللہ رب العزت نے عورت پر شان بخشی ہے
مرد حاکم ہی اچھا لگتا ہے
مرد کو اللہ نے اتنی شان بخشی ہے تمام انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام تمام کامل اکمل اعلی ظرف خوش طبعت و خوش اخلاق مرد ہی تھے الحمدللہ
کسی عورت کو نبوت کا شرف حاصل نہیں ہوا اور ناہی باری تعالیٰ چاہتے تھے
وہی مالک ہے اسی کی حکمت ہے
مرد کو زیب نہیں دیتا
جگہ جگہ منہ مارتا پھرے
مرد کی ایک شان ہے
مرد کی مردانگی کے خلاف ہے کسی غیر محرم کی طرف مائل ہو
اللہ نے چار کا حکم دیا ہے
برابری کرسکتے ہیں تو دیر کس چیز کی
شرعی اور قانونی طور پر کسی چیز کی روک ٹوک نہیں
اب وطن عزیز پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت
شادی سے قبل اپنا بیڑا خود غرق کرچکی ہوتی ہے
پھر حکیموں کی دکانوں کے چکر لگنا شروع ہوتے ہیں
تاحیات بس ادویات پر ہی پھر گزارے کرتے نظر آتے ہیں
معزرت کے ساتھ میرے الفاظ کچھ سخت ہیں
ایسے لوگ جو ایسی بد عادات کا شکار ہیں وہ اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد زرا سکون سے ٹھنڈے دماغ سے سوچیں
مزید تفصیل اگلی پوسٹوں میں
ان شاءاللہ
مکمل طریقہ علاج پر لکھی جائیں گی
تاکہ نام نہاد فراڈی حکیموں سے خود کو بچا سکیں
دعاؤں میں یاد رکھیے گا
آ پ کا دوست
حکیم عبدالغفار
03003745763

Comments
Post a Comment